کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 302

کلام محمود — Page 100

۵۴ آریوں کو میری جانب سے سنائے کوئی ہو جو ہمت تو میرے سامنے آئے کوئی مرد میدان بنے اپنے دلائل لائے گھر میں بیٹھا ہوا باتیں نہ بنائے کوئی آسمانی بو شهادت ہو اسے پیش کرے یونہی بے ہودہ نہ بے پر کی اُڑائے کوئی سچا مذہب بھی ہے پر ساتھ دلائل ہی نہیں ایسی باتیں کسی احمق کو سُنائے کوئی ہے وہ صیاد جسے صید سمجھ بیٹھے ہیں ان کی عقلوں سے یہ پردہ تو اُٹھائے کوئی بیٹھ کر شیش محل میں نہ کرے نادانی ساکن قلعہ پہ پتھر نہ چلائے کوئی تاک میں شکر محمود ابھی بیٹھا ہے ہاں سمجھ کر ذرا ناقوس بجائے کوئی ہم ہیں تیار بتانے کو کمال قرآن خوبیاں دید کی بھی ہم کو بتائے کوئی