کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 302

کلام محمود — Page 99

خانہ دل کبھی آباد نہ ہو گا جب تک میزباں میں نہ بنوں اور وہ مہمان نہ ہو رند مجلس نظر آئیں نہ بھی یوں نور جام اسلام میں گر بادۂ عرفان نہ ہو کسی طرح مانوں کہ سب کچھ بے خزانہ میں تھے پر تیرے پاس میرے درد کا درمان نہ ہو نہیں تو بھوکا ہوں فقط دید رخ جاناں کا باغ فردوس نہ ہو روضہ رضوان نہ ہو یہ جو معشوق لیے پھرتی ہے اندھی دنیا میرے محبوب کی ہی ان میں کہیں آن نہ ہو عشق وہ ہے کہ جو تن من کو جلا کر رکھ دے درد فرقت وہ ہے جس کا کوئی درمان نہ ہو کام وہ ہے کہ ہو جس کام کا انجام اچھا بات وہ ہے کہ جیسے کہ کے پیشمان نہ ہو رہ بھی کچھ یاد ہے جو یار سے کہاں نہ کرے وہ بھی کیا یار ہے جو خوبیوں کی کان نہ ہو عشق کا لطف ہی جاتا ر ہے اے اللہ طبیب درد گر دل میں نہ ہو درد بھی انسان نہ ہو منے دیتا ہے مجھے بات تو تب ہے واعظ اس کو تو دیکھ کے انگشت بدندان نہ ہو اے عدو مگر تیرے کیوں نہ ضرر پہنچائیں ہاں اگر سر پہ میرے سایہ رحمان نہ ہو ہے یہ آئین سماوی کے منافی محمود عشق ہو دل کا لیکن کوئی سامان نہ ہو