کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 302

کلام محمود — Page 87

آہ دنیا پر کیا پڑی اُفتاد دین و ایمان ہو گئے برباد میر اسلام ہو گیا مخفی سارے عالم پہ چھا گیا ہے سواد آج مسلم میں رنج و غم سے پور اور کافر ہیں خندہ زن دلشاد روح اسلام ہو گئی محصور کفر کا دیو ہو گیا آزاد جو بھی ہے دشمن صداقت ہے دین حق سے ہے اسکو بغض و عناد جھوٹ نے خوب سر نکالا ہے ہے صداقت کی ہل گئی بنیاد دشمنان شریعت حقہ چاہتے ہیں تعلب و افساد اس ارادے پر گھر سے نکلے ہمیں دین اسلام کو کریں برباد ہے ہمارے علاج کا دعوی کہتے ہیں اپنے آپ کو فصاد مگر اس فصد کے بہانے سے کر رہے ہیں وہ کار صد جلاد رستم و بخور بڑھ گیا مد انتہا سے نکل گئی ہے داد ہے غضب میں وہ شائق بیداد پھر ستم یہ کہ میں ستم ایجاد پھر یہ ہے قہر ظلم کر کے وہ خود ہمیں سے میں ہوتے طالب داد اے خدا اے شہ لیکن دمکان قادر و کارساز و رب عباد دین احمد کا تو ہی ہے بانی پس تبھی سے ہماری ہے فریاد اخبار الفضل جلد ، هر جنوری تله - 4