کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 302

کلام محمود — Page x

I ۲۰۵ ۲۰۹ ۲۱۰ ٢١١ 114 ما ۱۳ ۱۴۵ ۱۴۸ 10۔101 ۱۵۲ چھوڑ کر چل دئے میدان کو دو ماتوں سے کو آنکھے میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے عاشق تو وہ ہے جو کہ کہے اور سُنے تیری وہ گل رعنا کبھی دل میں جو مہماں ہو گیا وہ آتے سامنے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا دل دے کے ہم نے ان کی محبت کو پالیا کھلے جو آنکھ تو لوگ اس کو خواب کہتے ہیں آآ کہ تیری راہ میں ہم آ نکھیں بچھائیں سُنانے والے افسانے ہما کے بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں عشق نے کر دیا خراب مجھے اے بے یاروں کے یار نگاہ نطف غریب مسلماں پر عقبیٰ کو بھلایا ہے تو نے تو احمق ہے ہشیار نہیں حریم قدس کے ساکن کو نام سے کیا کام چاند چمکا ہے گال میں ایسے جو دل پہ زخم لگے ہیں مجھے دکھا تو سہی نکل گئے ہو ترے دل سے خار کیسے ہیں ۱۵ تم نظر آتے ہو ذرہ میں غائب بھی ہو تم ۱۵۳ اے شاہ معالی آبھی جا ارا دے غیر کے ناگفتنی ہیں هدا ٢١٢ ۲۱۴ ۲۱۵ 높은 44 H ۲۱۸ ۲۱۹ ۲۲۰