کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 302

کلام محمود — Page 46

۲۵ کیا جانئے کہ دل کو مرے آج کیا ہوا کس بات کا ہے اس کو یہ دھر کا لگا ہوا کیوں اس قدر یہ رنج و مصیبت میں پور ہے کیوں اس سے امن رمیش ہے بالکل چھٹا ہوا دہ جوش اور فروش کہاں اب چلے گئے رہتا ہے اس تدریہ بھلا کیوں دبا ہوا خالی ہے فرحت اور مری ہے، کیا سبب رہتا ہے آبلہ کی طرح کیوں بھرا ہوا چھائی ہوئی ہے اس پر بھلا مردنی یہ کیوں جیسے کہ وقت مسیح دیا ہو جب ہوا باد سموم نے اسے مر جھا دیا ہے کیوں؟ رہتا ہے کو گلہ کی طرح کیوں بھب اہوا کیوں اس کی آب و تاب وہ مٹی میں مل گئی ؟ جیسے ہو خاک میں کوئی موتی ملا ہوا کیا غم ہے اور درد ہے کس بات کا اسے کس رنج اور مذاب میں ہے مبتلا ہوا مجھ پر بھی اس کی فکر میں آرام ہے حرام میں اس کے غم میں خود ہوں شکار بلا ہوا سب بشعر و شاعری کے خیالات اُڑ گئے سب لطف ایک بات میں ہی کر کرا ھوا آہ و فغان کرتے ہوئے تھک گیا ہوں میں نالہ کہ جو رسا تھا مرا نارسا ہوا ہر اک نے ساتھ چھوڑ دیا ایسے حال میں مجھے تھے باوفا جسے وہ بے وفا ہوا اس درد و غم میں آنکھیں تلک لے گئیں جواب آنسو تنگ بہانا اُنہیں ناروا ہوا سارا جہاں مرے لیے تاریک ہو گیا ہو تھا مثال سایہ وہ مجھ سے جدا ہوا رہتی ہے پاک جیب شکیبائی ہر گھڑی دامان میسر رہتا ہے ہر دم پھٹا ہوا رساله تمجید الازبان ما و فروری سنشاه