کلام محمود — Page 238
۲۳۸ دہ دل کو جوڑ تا ہے تو ہیں دلفگار ہم وہ جان بخشتا ہے تو میں جاں نثار ہم تو دولہا ہمارا زندہ جاوید ہے جناب کیا بے وقوف ہیں کہ نہیں سوگوار ہم در اس کا آج گر نہ کھلا خیر کل ہی جائیں گے اس کے در پر یونسی بار بار ہم تدبیر ایک پردہ ہے تقدیر اصل ہے ہوں گے بس اس کے فضل سے ہی کامگار ہم کوئی عمل بھی کر نہ سکے اُس کی راہ میں رہتے ہیں اس خیال سے ہی شرمسار ہم دنیا کی مفتوں سے تو کوئی بنا نہ کام روئیں گے اُس کے سامنے اب زار زار ہم اٹھ کر رہے گا پردہ کسی دن تو دیکھنا باندھے کھڑے ہیں سامنے اس کے قطار ہم دشمن ہے خوش کہ نعمت دنیا ملی اسے ٹوٹیں گے اس کی گود میں جا کر بہار ہم تمت نے کیسا جوڑ ملایا ہے دیکھنا دہ خالق جہاں ہے تو مُشتِ غبار ہم ۱۹۵۲ء اخبار الفضل جلد ۶ -۳۱ دسمبر سالہ لاہور: پاکستان