کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 302

کلام محمود — Page 156

104 ۹۶ میری نیس زبان جو اس کی زباں نہیں میرا نہیں کہ دال کہ جو اس کا مکاں نہیں ہے دل میں عشق پر میرے منہ میں زباں نہیں نامے نہیں میں آئیں نہیں ہیں فغاں نہیں فرقت میں تیری حال دل زار کیا کہیں وہ آگ لگ رہی ہے کہ جس میں ھواں نہیں قرباں ہوں زخم دل پر کہ سب حال کہہ دیا شکوہ کا حرف کوئی مگر درمیاں نہیں کیوں چھوڑتا ہے دل مجھے اسکی تلاش میں آوارگی سے فائدہ کیا ، وہ کہاں نہیں مطلوب ہے فقط مجھے خوشنودی مزاج اُمید خورد خواہش باغ جناں نہیں جلوہ ہے ذرہ ذرہ میں دہر کے حسن کا سارے مکاں اسی کے ہیں وہ لامکاں نہیں شاق ہے جہاں کہ سُنے معرفت کی بات لیکن حیا د شرم سے چلتی زباں نہیں یا رب تیری مدد ہو تو اصلاح خلق ہو اُٹھنے کا دور نہ مجھ سے یہ بارگراں نہیں کھویا گیا خود آپ کسی کی تلاش میں کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں کہاں نہیں نے دوست تیرا عشق ہی کچھ نام ہو تو ہو یہ تو نہیں کہ یار ترا مہرباں نہیں ایمان جس کے ساتھ نہ ہو توت عمل کشتی ہے جس کے ساتھ کوئی بادباں نہیں اختبار الفضل بلد ۲۴-۳۱ دسمبر