کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 302

کلام محمود — Page 154

۱۵۴ ۹۴ وشن کو ظلم کی برچھی سے تم سیند و دل بنانے وہ یہ درد سے گا بن کے وا تم مہر کر وقت آنے دو یشی ورون کے میت کہیں نوں سنے بغیر پہنیں گے اس میں جان کی کیا پڑ جاتی ہے اگر تو جانے دو تم دیکھو گے کہ اسی میں قطرات محبت پلکیں گے بادل آفات مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو صادق ہے اگر تو صدق دکھ قربانی کر ہر خواہش کی میں جنس وفا کے اپنے کئے دنیا میں ہیں پیمانے دو جب سے نا آگ میں پڑتا ہے تو لندن سے پھلتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں مں جانے دو ال کایہاں پر کام نہی کو لکھوں بی بی خانہ میں مقصود مرا پورا ہواگر بن جائیں مجھے دیوانے تو وہ اپنا سر ہی چھوٹے گاڑہ اپنا خون ہی بیٹے گا دشمن حق کے پہاڑ سے گزر کر آتا ہے کرانے و یہ زخم تھالے مینوں بن جائینگے۔شک چین اس دن ہے قادر مطلق یار مراہ تم میرے یار کو آنے دو جو پتھے مومن بن جاتے ہیں موت بھی اُن سے ڈرتی ہے تم پیچھے مومن بن جاؤا در خوف کو پاس نہ آنے در یا صدیق محمد عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے دعا باقی تو پرانے قھتے ہیں زندہ ہیں میں انسانے دو د تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی سستا سودا ہے دشمن کو تیر مانے دو میخانہ دہی ساتی بھی رہی پھر اسمیں کہاں غیرت کا عمل ہے روشن خود بھینگا جس کو آتے ہیں نظر مخا نے وو محمود اگر منزل ہے کٹھن تو راہ نما بھی کامل ہے تم اس پر توکل کر کے چلو آفات کاخیال ہی جانے دو اخبار الفضل جلد ۲۳-۱۴ جولائی ۱۹۳۵