کلام محمود — Page xi
۲۲۱ ۲۲۵ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۴۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۹ £ £ TFA ۲۴۰ ط 104 106 109 14۔141 ۱۲۵ زمیں کا بوجہ دہ سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں یہ کیسی ہے تقدیر جو مٹتے نہیں مٹتی آنکھ گر مشتاق ہے جلوہ بھی تو بیتاب ہے شید کافی ہے فقط اس محسن عالمگیر کی تو بہ کی بیل چڑھنے لگی ہے منڈھے پر آج سر پہ حاوی وہ حماقت ہے کہ جاتی ہی نہیں ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے جو کچھ بھی دیکھتے ہو فقط اس کا نور ہے اس کی رعنائی میرے قلب حزیں سے پوچھتے جونہی دیکھا انہیں چشمہ محبت کا اُبل آیا آؤ ! تمہیں بتائیں محبت کے راز ہم جب وہ بیٹھے ہوئے ہوں پاس میرے عاشقوں کا شوق قربانی تو دیکھ کیا آپ ہی کو نیزہ چھونا نہیں آتا لگ رہی ہے جہاں بھر میں آگ دنیا میں یہ کیا فتنہ اُٹھا ہے میرے پیارے گھر کی طاقتوں کا توڑ ہیں ہم دہ دل کو جوڑتا ہے تو ہیں دلفگار ہم الفت اُلفت کہتے ہیں پر دل اُلفت سے خالی ہے ارے مسلم ! طبیعت تیری کیسی لا ابالی ہے ۱۹۹ 194 14^ 14۔147 140