کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 47
۴۷ اس پر چڑھ کر انسان آسمان تک پہنچ سکے گا۔یہ خصوصیت قرآن کریم میں واضح طور پر پائی جاتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے عاملین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو اس امر کے مدعی تھے کہ قرآن کریم کے ذریعے سے انہیں روحانی صعود حاصل ہوا یہاں تک کہ وہ خدا تعالیٰ ایک جاپہنچے اور اس کے خاص فضلوں کو انہوں نے حاصل دوسری خصوصیت فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ کلامی اٹھی کی تعلیم اعلیٰ اخلاق پرش تمل ہوتی ہے کیونکہ اونچا درخت بلند خیالی اور وسعتِ اخلاق پر بھی دلالت کرتا ہے۔یہ امر بھی قرآن کریم میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔قرآن کریم کی اخلاقی تعلیم ایسی اعلی التعلیم ہے اور درخت کی شاخ کی طرح اوٹی سے اعلیٰ کی طرف گئی ہے کہ کسی اور کتاب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔تیسری خصوصیت فرعها في السَّمَاءِ کے ماتحت یہ ہے کہ اس کی شاخیں بہت ہوں۔اس خصوصیت میں بھی قرآن کریم کو ایک ممتاز درجہ حاصل ہے اس کی تعلیم اس محمد ر مطالب پر حاوی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ بھاتی ہے۔ایک مختصر سی کتاب ہے۔انا جیل سے بھی چھوٹی لیکن اس کے اندر اس قدر مطالب پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اس سے ہزاروں گئے زیادہ مجھم کی کتب میں وہ مضامین نہیں ملتے۔