کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 46
قرآن کریم کو یہ بات بدرجہ اتم حاصل ہے۔جب یہ ظاہر ہوا تب بھی ایک ایسی جماعت اسے بہتر ہوئی جنہوں نے اس کا درخت اپنے دلوں میں لگایا اور اپنے خون سے، اس کی آبیاری کی اور اس کے ہور سے لے کر آج تک یہ بات اسے بہتر ہے چھٹی خصوصیت مضبوط جڑھوں والے درخت کی یہ ہوتی ہے کہ اس کا منبع ایک ہوتا ہے۔چلا کر ہم و نے ہیں کہ قرآن کریم کی انسانی اند کا اس کو میں دخل نہیں۔اس نے آہستہ آہستہ نشو و نما حاصل نہیں کیا بلکہ یکدم ایک ہی شخص کے دل پندار سے نازل کیا گیا۔وہ زمانہ کی کردو کی ترجمانی نہیں کرتی کہ اسے صدیوں کے فلسفہ کا خلاصہ کہا جائے جیسا کہ اچھی انسانی کتاب کا حامی ہے بلکہ وہ اکثر امور میں زمانے کے رو کا مقابلہ کرتی اور اُن کے خلاف چلتی ہے اور اپنے لئے ایک بالکل نیا راستہ بناتی ہے جس سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنی غذا ایک ہی جگہ سے لیتی ہے۔تیسری رسی علامت شجره طیبہ کی یہ بیاید تین کی یہ بیان فرمائی تھی کہ فرمها في السناريو باس و ان شاء ہوئی ہوتی ہیں۔آسمان میں شاخیں پھیلنے کے ساء ائے اوپر بیان کئے ہیں اور بانی معافی کے دو سے بھی قرآن کریم ایک تار کتاب نظر آتی دکان پہلی خصوصیت فرها في الستار کی لیکن نے یہ بتائی تھی کہ