کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 142 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 142

۱۳۲ تصدیق ہو رہی ہے۔مثلاً قرآن کریم نے یہ بتایا تھا کہ فرعون کی لاش اس کے ڈوبنے کے وقت ہی بچائی گئی اور محفوظ کر دی گئی تھی تاکہ وہ آئندہ زمانہ کے لوگوں کے لئے نشان کے طور پر کام آئے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- - وجوزنا يبنى اسراوِيلَ الْبَحْرَ فَاتْبَعَهُم فِرْعَوْنُ وجنوده بغْيَا وَ عَدْ وَأَحَتَّى إذا أَدْرَكَهُ الْغُرَقُ قَالَ امَنْتُ أَنَّهُ لا إلهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَائِيلَ وانَا مِنَ المُسلِمِينَ ه الينَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ منَ الْمُفْسِدِينَ ، فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَن خَلْفَكَ آيَةً وَاِن كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ عَنْ ابْتِنَا لَغَفِلُونَ ( یونس (ع) ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار سلامتی سے اُتار دیا اور اُنکے بعد فرعون اور اس کا لشکر سرکشی اور دشمنی سے اُن کے پیچھے آیا اور پیچھا کرتا چلا گیا یہاں تک اس کے غرق کرنے کے ہم نے سامان کر دئے۔اس وقت فرعون نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ بنو اسرائیل جس خدا پر ایمان لائے ہیں اس کے سوا اور کوئی خدا نہیں تب ہم نے کہا تو اب ایمان لاتا ہے اس سے پہلے تو نے فساد مچا رکھا تھا۔پس اب تیر سے اس ناقص ایمان کے بدلے میں ہم تیرے جسم کو نجات دیں گے تا دیرا جسم ہمیشہ ہمیش بعد کو آنے والے لوگوں