کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 70
نے اس تاریخ کو مناتے تھے۔یہ " (SATURNALIA) کا موسم تھا جب کہ مشرک اہل روما اپنے مزعومہ سورج دیوتا سے ملتیجی ہوتے کہ وہ ایک بار پھر اپنے شمالی عرض بلد کے سفر پر جادہ پیما ہو۔بائیبل نے گذشتہ انبیاء علیہم السلام کو نہایت بھیانک شکل میں پیش کیا ہے۔مثلاً حضرت آدم پر گناہ کرنے ، حضرت سلیمان پر شرک کا مرتکب ہونے ، حضرت ہارون پر کھڑا بنانے، حضرت لوط پر اپنی بیٹیوں کی آبروریزی کرنے کے شرمناک الزامات عائد کئے ہیں۔افسوس ! بائیبل اور طالمود اور اس نوع کی دوسری اسرائیلی روایات مسلمانوں میں راہ پاگئیں اور تفسیر کے نام پر عقیدہ اور ایمان کا جز بن گئیں۔خدا کا شکر ہے کہ مشرق اوسط کے بعض فاضل اور محقق ان اسرائیلیات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے لگے ہیں۔سید نا حضرت مصلح موعود نے قرآن مجید کی صفت مُبین اور مھیمن کے پیش نظر ایسی روح پرور تفسیر فرمائی کہ خدا کے سب نبیوں اور مرسلوں کے نورانی چھرے آفتاب کی طرح بالکل مصفا اور پوری طرح روشن دکھائی دینے لگے۔چنانچہ حضور نے "سیر روحانی" کی تاریخی تقریروں میں قرآن مجید کی اس مثالی خصوصیت پر خاص طور پر روشنی ڈالی جس نے انبیاء کی معصومیت اور حقیقی شان کو ظاہر کر دکھلایا چنانچہ فرمایا۔آثار قدیمہ کی جن لوگوں کے ہاتھوں میں خدا نے گنجیاں دی تھیں انہوں نے ان آثار قدیمہ کو خراب کر دیا، تباہ کر دیا اور اس قدر