کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 53
۵۲ مطابق نہیں بلکہ طبعی ترتیب ہے۔وہ اپنے مضامین میں جو ترتیب رکھتا ہے وہ اس ترتیب سے علیحدہ ہے جو انسان اپنی کتابوں میں رکھتے ہیں۔قرآن کریم اس چیز کو ہر سب سے پہلے بیان ہوئی ضروری ہو بیان کرتا ہے اور پھر اس کے متعلق انسانی قلب میں پیدا ہونیوالے تمام وساوس اور شبہات کا ازار کرتا ہے۔غرض قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ اس نے اپنے مضامین میں ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی ترتیب رکھی ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔اُدھر ایک سوال فطرت انسانی میں پیدا ہوتا ہے اور ادھر قرآن کریم میں اس کا جواب موجود ہوتا ہے اے حضور رحمتہ اللہ علیہ قرآن کریم کی اس نہایت لطیف اور فلسفیانہ ترتیب کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ :- قرآن کریم بغیر اس کے کہ ترتیب کی طرف اشارہ کرے علم النفس کے ماتحت اپنے مطالب کو بیان کرتا ہے اور جو سوال یا جو ضرورت کسی موقعہ پر پیش آتی ہے اس کا اگلی عبارتوں میں جواب دیتا ہے گویا اس کی ہر اگلی آیت میں پچھلی آیات کے مطابق جو سوال پیدا ہوتے ہیں اُن کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ باریک ترتیب اور کسی کتاب میں نہیں ہے۔بائبل کے متعلق لوتھر (LUTHER) لکھتا تفسير سورة البقره ۴۹