کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 169
۱۶۹ کارناموں کی محرک بن جاتی ہے۔دنیا کو اس سے زیادہ اور کوئی فائد نہ ہوگا کہ خانہ کعبہ کی زیارت کے ساتھ ساتھ اس کی بھی زیارت ہوا کریگی لیکن یہ قرآن مجید کی خدمت نہیں بلکہ آرٹ کی خدمت ہوگی۔قرآن مجید اپنے دعوی اور دلائل میں لاثانی ہے وہ تدبر اور غور کرنے کے لائق ہے۔بڑی برکت والی کتاب ہے۔اس کی خدمت یہ ہے کہ اس کو کم از کم بینی زبانوں میں منتقل کیا جائے اور اس کے نسخے مفت تقسیم کئے جائیں یا دنیا کی بڑی لائبریہ یوں میں ان کو بھیجا جائے تاکہ بندگان خدا قانون خداوندی اور مشیت الہی سے واقف ہوں۔۔۔۔۔احمدیہ فرقے کے لوگ اِس میدان میں بہت آگے نظر آتے ہیں جنہوں نے تقریباً سولہ سترہ زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کرنے میں پیپل کی۔جب قوم کے پاس کوئی ٹھوس پروگرام نہیں ہوتا تو وہ ایسی نمائش گاہ کی طرف رخ کرتی ہے اور قرآن حکیم کی جگہ قرآن ضخیم کو اہمیت دیتی ہے یا لے قرآن شریف کا ایک نام ذکر بھی ہے یعنی عزت و شرف کا ذریعہ حضرت مصلح موعود کے ذریعہ بار بار قرآن کریم کا جو ہرعظیم الشان مرتبہ ظاہر ہوا اس کی برکت سے خدائے عزیز نے یہ ارادہ کیا کہ آپ کا نام گسترہ ارض پر تا ابد باقی رہے اور آسمان شہرت پر بھی ہمیشہ چمکتا رہے۔چنانچہ حضور خود فرماتے ہیں :۔نے ہفتہ وار بلٹز (217) کمیٹی ۱۵ اگست ۶۱۹۸۱ بحواله هفت روزه بدر قادیان ، ار ستمبر ۶۱۹۸۱