کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 143
۱۴۳ کے لئے عبرت کا موجب ثابت ہو اور لوگوں میں سے اکثر ہمارے نشانوں سے غافل رہتے ہیں۔یہ مضمون نہ بائبل میں مذکور ہے نہ یہودیوں کی تاریخ میں مذکور ہے نہ کسی اور معروف تاریخ میں مذکور ہے۔تیرہ سو سال پہلے قرآن نے یہ خبر دی اور اس خبر دینے کے تیرہ سو سال کے بعد فرعون موسی کی تھی مل گئی جس سے معلوم ہوا کہ ڈوبنے کے بعد اس کی لاش ضائع نہیں ہو گئی تھی بلکہ بچائی گئی تھی۔اُسے حفوظ کیا گیا تھا اور وہ محفوظ کر دی گئی۔ہو سکتا تھا کہ حنوط کرنے کے باوجود ان بہت سے تغیرات کی وجہ سے جو مصر میں ہوئے فرعون موسی کی لاش ضائع ہو جاتی مگر اس کی لاش محفوظ رہی اور اس وقت دنیا کے سامنے عبرت کا نمونہ پیش کر رہی اور قرآن کریم کی سچائی پر گواہی دے رہی ہے “ لے حضرت مصلح موعود کا یہ شہرہ آفاق دیباچہ دنیا کی مختلف زبانوں میں چھپ کر جب یورپ و امریکہ میں پہنچا تو مخالفین اسلام کو بھی اس حقیقت کے اعتراف کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا کہ قرآن کو یہ منفرد حیثیت حاصل ہے کہ جس معاملہ میں بائیبل خاموش ہے قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے اس کی خبر دے دی تھی۔قرآن کی فضیلت اور برتری کی یہ ایسی زیر دست دلیل ہے کہ ۱۹۷۶ء میں ایک ے دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۴۳۴۰۴۳۳ بے