کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 117
114 لائبریری ہو جاتی اور اس میں ہزاروں کتب رکھی ہوئی ہوتیں۔ایک نسل انسانی کهہ دیتی کہ ہم نے اس کے پانچ سو صفحات پڑھتے ہیں۔دوسری کہتی ہم نے اس کے ایک ہزار صفحات پڑھے ہیں لیکن آب قرآن کریم ایک چھوٹی سی کتاب کی شکل میں ہے اور زمین کی طرح اسکی ایک تہ کے نیچے ایک مضمون ہے، دوسری تہ کے نیچے دوسرا مضمون ہے، تیسری تہ کے نیچے تیسرا مضمون ہے اور اسی طرح تھوڑے سے الفاظ میں ہزاروں مضامین بیان کر دئے گئے ہیں حفظ کر نیوالے اسے آسانی سے حفظ کر سکتے ہیں اور پڑھنے والے اسے جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا ہے كه فيها كتب قيمة یعنی اس کے اندر تمام ایسی تعلیمیں پائی جاتی ہیں جو قیامت تک کام آنے والی ہیں اور کوئی ایسی تعلیم جو دائمی ہو اس سے باہر نہیں رہی۔اسی شان اور عظمت کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نام قرآن مجید بھی رکھا اور دنیا میں یہ اعلان فر ما دیا وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامُ وَ الْبَحْرُ يَمُدُّهُ من بَعدِ سَبْعَةُ ابحرِ مَا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللهِ القَمَن : ۲۸) یعنی زمین میں تمہیں جس قدر درخت دکھائی دیتے ہیں اگر ان تمام کو کاٹ کاٹ کر فلمیں بنا لیا جائے اور سمند رسیا ہی بنا دیا جائے اور پھر اور سمندروں کا پانی بھی سیاہی بنا دیا جائے اور ان قلموں اور سیاہی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جائیں تو دنیا بھر کے درختوں