کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 116
۱۱۶ انعامات کا وعدہ فرمایا ہے اور اسے دہرا کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام پر پھر مشکلات اور مصائب آنیوالے ہیں مگر اسے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم تیری قربانیاں اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ دوبارہ جب اسلام پر تنگی اور تکالیف کا زمانہ آئے گا تو انہی کے طفیل ہم دوبارہ ٹیسر پیدا کر دیں گے۔آخری زمانہ کی تنگیوں کی قیمت بھی ہم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی قربانیوں کی صورت میں وصول کرلی ہے اور یہی قربانیاں دوبارہ اسلام کے لئے رحمت اور فضل کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بن جائیں گی۔(٣٤) آيت فيها كتب قيمة (البینہ : ہم سے قرآنی حقائق کی جامعیت کا استدلال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ : در حقیقت قرآن کریم میں ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تو اس کے تمام متعلقہ مضامین کو اس کے نیچے تہ بہ تہ جمع کر دیتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔۔۔۔وہ سب مطالب جو قرآنی الفاظ کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں اگر باہر نکال لئے جاتے اور ظاہری الفاظ میں انہیں بیان کیا جاتا تو جیسے اس زمین کے اندر کی چیزیں اگر باہر آجائیں تو وہ چیزیں پھیل کر سینکڑوں میل کا علاقہ رک جاتا اسی طرح قرآن کریم بھی اتنا پھیل جاتا کہ کوئی انسان اسے پڑھ نہ سکتا اور یہ کتاب نہ رہتی بلکہ ایک عظیم الشان