کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 114
۱۱۴ عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی یعنی اسے پاکیزہ رُوح فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِى (الفجر ۳، ۳۱ تومیرا استاد اور فرمانبردار ہوتے ہوئے اس باغ میں داخل ہو جا جس میں مکیں بھی تیر سے ساتھ ہوں گا۔اس میں دو وجوہ بتائی ہیں کہ مومن جنت میں کیوں داخل ہو گا ایک تو اس لئے کہ وہ میرا فرمانبردار ہو گا اور دوسرے یکس او وہ اکٹھے اس میں ہوں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومن کو گویا یہ بتاتا ہے کہ میں جانتا ہوں تو جنت کی خاطر جنت میں نہیں جائیگا بلکہ میرے قرب کی وجہ سے جائے گا۔اس میں جنت کے انعام کو ایسا حقیر بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تک یکی بندہ سے یہ نہ کہوں گا کہ اس میں داخل ہونے میں میری اطاعت ہے وہ داخل نہ ہوگا اور دوسرے جب تک میں اسے یہ نہ کہوں گا کہ یہ جنت اصل مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود اس میں داخل ہونے کا یہ ہے کہ تو میرے ساتھ رہے گا وہ داخل نہ ہو گا۔تو اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے عشق و محبت کے بے انتہاء باب کھول دئے ہیں یا اے (٣٦) آيت إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ) انشراح : ، ، میں پوشیدہ اشارات کا ذکر بایں الفاظ کرتے ہیں :۔لے خطبات محمود جلد اول ص ؟ '۔