کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 31
کوئی سوال کیا ہے جس کے جواب میں میں نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات پیش کی ہیں جن میں سے ایک رب بھی ہے۔اِس پر اُس بر من نو مسلم نے کہا کہ ان صفات کا ذکر تو بائیبل میں بھی آتا ہے۔اس فقرہ کے دونوں معنے ہو سکتے تھے۔یہ بھی کہ چونکہ بائیبل میں بھی بعض صفات کا ذکر ہے اس لئے یہ دلائل عیسائیوں پر بھی اترکر سکتے ہیں اور یہ معنے بھی ہوسکتے تھے کہ گویا قرآن کریم بائیبل کی نقل کرتا ہے۔یکس نے ان دونوں معنوں کا خیال کر کے دل میں سوچا کہ یہ تو مسلم ہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا ہو کہ قرآن کریم کی بہت سی تعلیم بائیبل سے ملتی جلتی ہے پھر اس کی فضیلت کیا ہوئی ؟ اس خیال کے پیدا ہونے پر میں نے بڑے جوش سے اُن کے سامنے تقریر شروع کی کہ بائیبل میں جو یہ صفات آئی ہیں اُن سے قرآنی صفات کو امتیاز حاصل ہے۔بائیبل میں محض رسمی ناموں کے طور پر وہ صفات بیان کی گئی ہیں اور قرآن کریم نے ان صفات کی باریکیوں کو بیان کیا ہے اور ان مضامین میں وسعت پیدا کی ہے اور ان کے راز بیان گئے ہیں۔چنانچہ میں نے کہا۔دیکھو! ارب کا لفظ ہے بائیبل نے بھی خدا تعالی کو پیدا کرنے والا یا پالنے والا کہا ہے یا زمین آسمان کا خالق کہا ہے لیکن قرآن کریم یہ نہیں کہتا بلکہ قرآن کریم شوره فاتحہ میں خدا تعالیٰ کو رَبُّ العالمین کے طور پر پیش کرتا ہے