کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 132
۱۳۲ میں پھنس گئے یہاں پھنس کر کون نکلا ہے جو نہ نکلیں گے ؟ مگر یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جن کا دل غریبوں کی مصیبتوں سے خون کے آنسو روتا ہے۔وہ مذہب اسلام سے بھی بیزار ہیں اس لئے کہ اس کی ساری تاریخ شہنشاہیت اور جاگیر داری کی دو ناک کہانی ہے کسی کو کیا پڑی کہ وہ شہنشاہیت کے خس و خاشاک کے ڈھیر کی چھان بین کر کے اسلام کی سوئی کو ڈھونڈے تا کہ انسانیت کی چاک دامانی کا رفو کر سکے اس کے پاس ۲۸) کے سائنٹیفک سوشلزم کا ہتھیار موجود ہے۔وہ اس کے ذریعے سے امراء اور سرمایہ ارون کارل مارکس () -(KARL MARX), کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اسے اسلام کی اتنی لمبی تاریخ میں سے چند سال کے اوراق کو ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے پروگرام بنانے کی فرصت کہاں لے یا د ہیں قرآن کے الفاظ تو اُن کو تمام اور پوچھیں تو ہیں کہتے یہ ہے اللہ کا کلام یقین مفقود ہے ایمان ہے بالکل ہی خام علم و عرفاں کی غذا ان پر ہے قطعاً رہی حرام تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں نے ای این موارد در فصل من امیر علی اور اسلام پاکستان ای دو بار کے کلام کو نشا