کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ

by Other Authors

Page 115 of 178

کلام اللہ کا مرتبہ اور حضرت مصلح موعود ؓ — Page 115

HA " العسو جو دوباره بیان فرمایا اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام پر دو تاریک زمانے آنے والے ہیں ایک زمانہ تو وہ تھا جو بعثت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوا اور آپکی زندگی میں ہی ختم ہوگیا۔تمام تکالیف و مصائب اور محمله مشکلات جو اسلام کے راستہ میں دشمنوں کی طرف سے کھڑی کی گئیں وہ رسول کریم صلى ال علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ کی دعاؤں اور آپ کی قربانیوں کی وجہ سے ختم ہو گئیں اور آپ کی وفات ایک فاتح جرنیل کی حیثیت سے ہوئی اور آیت اِن مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ اسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جو تنگیاں اور تکالیف تجھے پہنچ رہی ہیں ان کے بعد خد اتعالے کی طرف سے بہت بڑی کامیابیاں تجھے ملنے والی ہیں۔تنگیاں تو " ال“ لگا کر محصور و محدود بتائی ہیں مگر سہولت نکرہ کی طرح وسیع ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنگی کا زمانہ سارا ۲۳ ۲ سال ہے مگر اس کے مقابلہ میں اسلامی فتوحات کا زمانہ اتنا لمبا ہے کہ وہ تنگیاں اور تکالیف اس کے سامنے پہنچے ہیں یا اے فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُشْرِ يُسْرًا میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عظیم الشان لے خطبات محمود جلد سوم ص 4