کلامِ ظفرؔ — Page 50
83 تیرے ہی فیض سے موقوف ہوا وادِ بنات محسن طبقه نسوان رسُولِ عربي کلام ظفر یہ بھی اعجاز ہے تیرا کہ شتر بانِ عرب ہو گئے شاہ جہاں بان رسُولِ عربی سلک وحدت میں پروئے تھے جو موتی تُو نے آج ہیں پھر وہ پریشان رسُولِ عربی آج امت ہے تری لہو و تجارت میں مگن مسجدیں ہو گئیں ویران رسُولِ عربی مغربی فلسفه محبوب امت کو تری ہے اور مہجور ہے قرآن رسُولِ عربی ہاں دعا کیجئے گا می موتی کے حضور پھر مسلماں ہوں مسلمان رسُولِ عربی ہو گنہگار ظفر پر بھی ذرا چشمِ کرم میرے آقا میرے سلطان رسُولِ عَرَ صاحب 84 کلام ظفر صلى الله خطاب بحضرت خاتم النبین علی علوم اصفیا لولاک ختم الانبیاء مقتدائے انبیاء و تیری آمد سے ہے یہ عقدہ کھلا ارفع و اعلیٰ ہے تو بعد از خدا کو ہی ختم الانبیاء لا جرم ہے ☆ ہے سر ابتدائے زندگی تیری ہستی منتہائے زندگی تجھ سے وابستہ بقائے زندگی تو حقیقی راہنمائے زندگی لا جرم ہے تو ہی ختم الانبیاء تیرے دم سے ہم ہوئے خیر الامم تیرے بڑھنے سے بڑھا اپنا قدم ختم ترے نام پر شانِ ختم تو سراپا جود ہے ابر کرم لا جرم ہے سابقین ہی ختم الانبیاء و لا لاحقین از انبیاء نقطہ نفسی ترا ان کی ضیاء تیری خاتم سے انہیں منصب ملا سب ترے مظہر ہیں اے خیر الوریٰ کو ہی ختم الانبیاء لا جرم ہے تجھ سے پہلے جس قدر تھے نامور تھے وہ جن جن خوبیوں سے بہرہ ور تگو ہے جامع سب کا قصہ مختصر تیرے سر ہے سہرۂ فتح و ظفر لا جرم ہے تو ہی ختم الانبیاء (ماہنامہ الفرقان جنوری، فروری 1960ء صفحہ 26) انبیاء کیلئے مہر الفضل انٹر نیشنل صفحہ 16 جون 2000 ء تا22 جون 2000ء صفحہ 2) بمعنی مهر