کلامِ ظفرؔ — Page 19
21 کلا ظفر 22 کلام ظفر طلباء جامعہ احمدیہ سے خطاب اگر طالب علم شریعت کا پابند نہیں تو وہ علم سے محروم ہو جائے گا جامعہ احمدیہ کی سالانہ کھیلوں کی اختتامی تقریب سے مہمان خصوصی مولانا ظفر محمد ظفر کا خطاب (ربوہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل اور سابق استاد جامعہ محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب نے کہا کہ اگر طالب علم شریعت کا پابند نہیں تو وہ علم سے محروم ہو جائے گا۔وہ یہاں 31 جنوری (1980ء) کی شام کو جامعہ احمدیہ کی سالانہ کھیلوں کے اختتام پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔روزنامه الفضل ربوہ 6 فروری 1980ء) انہوں نے جامعہ احمدیہ کے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر عمل نہیں تو کچھ نہیں کیونکہ جو کتابیں آپ پڑھتے ہیں وہی دوسرے لوگوں نے بھی پڑھی ہوئی ہیں لیکن اگر آپ ان پر برتری حاصل کرتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ کا اس پر عمل بھی ہے اس لئے کوشش یہ کریں کہ جو پڑھیں اس کو اپنالیں۔انہوں نے کہا کہ نفس امارہ کو مارنا آسان نہیں یہ آہستہ آہستہ مرتا ہے۔اس کے لئے ہمیں ہر بات میں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔اس کی مثال دیتے ہوئے مولا نا محترم نے کہا کہ آپ کھانا کھاتے ہوئے بسم اللہ نہیں پڑھتے تو آپ کمزور ہیں اگر کھانے کے بعد الحمد للہ نہیں کہتے تو کمزور ہیں۔مسجد میں داخل ہوتے ہوئے اگر دعا نہیں پڑھتے تو کمزور ہیں۔انہوں نے طلباء کونصیحت کی کہ وہ یہ یادرکھیں کہ ہر کام کا دارو مدار ضمیر اور نیت پر ہے۔انہوں نے بتایا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہیں بڑے بلند پایہ اساتذہ سے جن میں حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب وغیر ہم شامل تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب کا اتنا احترام ہے میرے دل میں کہ آپ لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہ ایک چلتی پھرتی لائبریری تھے اور جس کے مقابلے پر آتے اسے منٹوں میں خاموش کرا دیتے۔مولانا ظفر صاحب نے طلبائے جامعہ کے لئے دعا کی کہ فرشتے آپ کے دل و دماغ کو روشن کریں اور آپ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں۔بعد ازاں محترم ملک سیف الرحمن صاحب پرنسپل نے طلباء اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور درخواست کی کہ احباب کرام جامعہ کے طلباء اور اساتذہ کے لئے دعا کریں کہ وہ اپنے فرائض بہتر سے بہتر طور پر ادا کرسکیں۔اس کے بعد مہمان خصوصی محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر نے انعامات تقسیم فرمائے اور دعا کے بعد تقریب کا اختتام ہوا۔اس تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا اور اس کے بعد جامعہ کے استاد مولانا جلال الدین قمر صاحب نے مہمان خصوصی محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کا تعارف کروایا۔انہوں نے کہا کہ مولانا ظفر صاحب کی پیدائش سے ایک دن قبل ان کی والدہ مرحومہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک تالاب سے ایک کٹورہ پانی کا بھر کر لائی ہیں جس کی تعبیر یہ کی گئی کہ ان کا ہونے والا بچہ زیور علم سے آراستہ ہو گا۔اسی طرح بچپن میں ان کے والد مرحوم نے انہیں فرمایا کہ مبارک ہو تم پڑھ جاؤ گے۔یہ پوچھنے پر کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔مولانا ظفر صاحب کا حافظہ غضب کا ہے۔آپ نے