کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 104 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 104

191 کلام ظفر 192 کلام ظفر فقه و منطق، فلسفه دیگر علوم حاضر ذہن صفا تھے بالعموم آہ وہ لمبی نمازیں آپ کی شاہد ذوق و سرور سرمدی ہم میں یہ ہمت کہاں طاقت کہاں دل میں آتش ہو تو اٹھتا ہے دھواں آپ سا اب کوئی بھی عالم نہیں بے مثل تھے مفتی شرع جبیں پاگئے وہ احمدیت میں مقام اُن پہ ہو رحمت خدا کی والسلام اصحاب احمد جلد 5 سیرت حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب صفحہ 305 نیز روز نامہ الفضل 21 نومبر 2014ءصفحہ 2) حضرت سید ہ سارہ بیگم صاحبہ کی وفات پر (1933) حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کی وفات کے وقت حضرت مصلح موعود اللہ ان پر راضی ہو قادیان سے باہر تھے۔اسی احساس کے تحت حضور نے ایک نظم (مطبوعہ افضل 9 جولائی 1933ء صفحہ 2) لکھی جس کا پہلا شعر تھا: حاضر نہ تھا وفات کے وقت اے مرے خدا بھاری ہے یہ خیال دل ریش و زار پر اور آخری دو شعر تھے : ڈرتا ہوں وہ مجھے نہ کہے با زبانِ حال جاؤں کبھی دعا کو جو اس کے مزار پر ” جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر ذیل کی نظم اسی نظم کے جواب میں بزبانِ حضرت سیدہ مرحومہ کہی گئی اور جب حضور نے ملاحظہ فرمائی تو مجھے لکھا: اللہ تعالیٰ آپ کی زبان مبارک کرے اور ایسا ہی ہو جیسا کہ آپ نے کہا ہے۔“ حاضر نہ تھے وفات پہ بھاری ہے یہ خیال اے میرے پیارے تیرے دل ریش وزار پر