کلامِ ظفرؔ — Page 103
189 کلام ظفر 190 استاذی المکرم حضرت مولوی سید محمد سرورشاہ صاحب کی یاد میں آرہی ہے یاد سرور شاہ کی حضرت استاذ عالی جاہ کی عشق احمد جن کو لایا کھینچ کر ہو گئے قربانِ حق وہ سر به سر آگئے وہ چھوڑ کر سارا جہاں دیکھ کر حُسن و جمال قادیاں خدمت دینی رہا ان کا شعار کٹ گئی یوں زندگی مستعار جامعہ میں آپ ہی افسر رہے پھر وصایا میں بھی خدمت گر رہے عالمان احمدیت نامور آپ کے ہی فیض سے ہیں بہرہ ور ماہِ رمضاں درس قرآں آپ کا مسجد اقصیٰ میں روحانی فضا تھے مناظر اس قدر وہ کامگار مولوی تھے آپ کا ادنی شکار وہ مقام ”مد“ وہ تاریخی خصام ادعائے علم و ساداتی غرور ہو گئے کافور احمد کے حضور ثناء اللہ پہ کی حجت تمام حضرت احمد کے دیوانے ہوئے مل گیا جس پر غضنفر کا خطاب دیکھئے اعجاز احمد کی کتاب شمع نورانی کے پروانے ہوئے مراد حضرت اقدس کی کتاب اعجاز احمدی کلام ظفر