کلامِ ظفرؔ — Page 73
129 اس کی آب و تاب سے بینا بھی نابینا ہوئے ہائے کیا ظالم ہے یہ موج سراب زندگی بارگاه ایزدی میں تو اگر مقبول ہے رُوح پرور کیف آور ہے شراب زندگی کلام ظفر کلام ظفر 130 بسکہ دنیا خواب غفلت میں ہی اپنی عمر ساری کٹ گئی دَارِ فانی دار فانی ہے اس کی ہر چیز آنی جانی ہے نوجوانوں سے چھن گیا بچپن بوڑھوں سے چھن گئی جوانی ہے صاف ہے اے محتسب اپنا حساب زندگی روشنی میں تو پہنچ جا منزل مقصود تک اے مسافر ڈھل رہا ہے آفتاب زندگی اے ظفر اس رمز سے اکثر بشر ہیں بے خبر طاعت و تقوی میں ہے حسن و شباب زندگی دوستو ہو سکے تو کام کرو کام کرنے میں کامرانی ہے مگی مدنی کی داستان پڑھو سب سے خوش تر یہی کہانی ہے زیست انساں کی بعد مرنے کے بن کے رہ جاتی اک کہانی ہے اب یہ بچپن کبھی نہ آئے گا اب نہ آنے کی یہ جوانی ہے روز نامه الفضل 4 مئی 1968 ، صفحہ 7) کہانی سنوار کر لکھ لو گر طبیعت میں کچھ روانی ہے کیجئے ابھی سے مرنے کی وہ گھڑی سخت ہے جو آنی ہے روزنامه الفضل 7 /اکتوبر 1990 ء صفحہ 2)