کلامِ ظفرؔ — Page 51
85 در مدح قرآن کریم قرآنِ پاک جہان میں تو وہ بے مثال کتاب ہے جو کمال حسن و جمال میں فقط آپ اپنا جواب ہے کلا ظفر 86 کلام ظفر کبھی شرق میں کبھی غرب میں تیری رحمتوں کی ہیں بارشیں ہے جہاں جہاں پہ کرم تیرا ہمہ گیر تیرا سحاب ہے جو نہ پی سکا وہ نہ جی سکا، جو نہ جی سکا وہ نہ پی سکا صفت دوگونه سے متصف تری زندگی کی شراب ہے تری سورتوں میں تجلیات ربوبیت کا ظہور ہے تو کلامِ رب خبیر ہے تو نشانِ شانِ قدیر ہے ترے لفظ لفظ میں نور ہے ترے حرف حرف میں آب ہے تیرا کر سکے جو معارضہ بھلا کس غریب کی تاب ہے ترا ایک یہ بھی کمال ہے کہ مقطعات کی ذیل میں تیری امت اسلام کی دو نشانوں کا حساب ہے تری بسملہ بھی عجیب ہے کہ جو برکتوں کی کلید ہے جو عمل ہو اپنا اعوذ پہ تو شیطنت پر شہاب ہے وہ تری فاتحہ کا وجود بھی ترا معجزه در معجزه تو لباب سارے علوم کا تو یہ تیرا لب لباب ہے شاداب ہے دلِ زندگی تری آب یاری کے فیض سے تری آب یاری اگر نہ ہو تو یہ زندگانی سراب ہے تیری آیہ آیہ کے ربط میں ترے امر و نہی کے ضبط میں مری زندگی کا ہے ضابطہ مری بندگی کا نصاب ہے مجھے رحم آتا ہے اے ظفر ان بے نصیبوں کے حال پر جو جہاں میں آج ذلیل ہیں اور پاس ایسی کتاب ہے (روز نامه الفضل 6 دسمبر 2006 صفحہ 2 نیز " کلام پاک نمبر 13 دسمبر 2007 ءسالانہ نمبر 26)