کلامِ ظفرؔ — Page 173
329 کلام ظفر 330 کلام ظفر التَّرْحِيب بِفَخَامَةِ مُعَمَّرَ الْقَذَا فِي رَئِيسِ مَمْلَكَةِ لِيبيا نوٹ فروری ۱۹۷۴ ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر قصیدہ ہذا خاکسار نے حکومت پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات ونشریات مولانا کوثر نیازی کو بھیجا۔انہوں نے جواباً لکھا کہ فریم کروا کر بھجوادیں۔(خط شامل اشاعت ہے) چنانچہ ایک شان دار فریم میں لگوا کر یہ قصیدہ اُن کو دیا گیا۔أَهْلًا وَ سَهْلًا مَرْحَبًا بِوُرُودِكُمْ آئیے! تشریف لائیے!! خوش آمدید!! الأَرْضُ مُشْرِقَةٌ بِنُورِ سُعُودِكُمْ ہماری سر زمین آپ کے نور سعادت سے چمک اٹھی ہے يَا مَنْ يُشَرِفُ بِالنُّزُولِ بِلَادَنَا آپ نے ہماری سرزمین میں تشریف لا کر اسے شرف بخشا ہے قد رادَ عَبْدًا شَانهَا بِشُهُودِكُم اور آپ کو دیکھ کر اس کی شان اور بڑھ گئی ہے قَرَّتُ عُيُونُ الْمُسْلِمِينَ إِذَا رَأَتُ مسلمانوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں جب انہوں نے بیلاد باكِسْتَان خَفَقَ بِنُودِكُمْ بلاد پاکستان میں آپ کے جھنڈوں کو لہراتے دیکھا يَا ضَيْفَنَا وَحَبِيبَنَا وَخَلِيلَنَا! اے ہمارے مہمان اور حبیب اور خلیل! مِنَّا السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَوَفُودِكُمْ ہماری طرف سے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سلام إنَّا نُعَانِدُ مَنْ يُعَانِدُ شَعْبَكُمْ جو لوگ آپ کی قوم کے دشمن ہیں ہم اُن کے دشمن ہیں وَنُحِبُّكُمْ وَنُحِبُّ كُلَّ وَدُودِكُمْ اور ہمیں آپ سے اور آپ سے محبت کرنے والوں سے محبت ہے شُكْرًا لَّكُمْ وَلِشَعُبِكُمْ إِذْ أَنْتُمْ آپ کا اور آپ کی قوم کا شکریہ کیونکہ آپ لم تخذُلُوا اِخوَانَكُمْ بِقُعُودِ كُمْ اپنے بھائیوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر بیٹھ نہیں رہے