کلامِ ظفرؔ — Page 127
237 کلام ظفر 238 کلام ظفر دبائی ہیں بغل میں گر حدیثیں تو ہاتھوں میں لئے قرآن آئے مسیحا سر کے بل چل کر گھروں ترے دیوانے اور مستان آئے بہت تکلیفیں رستے میں اٹھا ئیں مگر شادان اور فرحان آئے یہ بنگالی ہیں گر تو وہ ہیں سندھی یہ کشمیری ہیں وہ افغان آئے بہت آئے قریشی اور مرزے ہزاروں، شیخ! سید! خان! آئے یہ شامی ہیں تو یہ مصری و رومی بہت از سرحد ایران آئے غرض ہر ملک سے آئے ہیں مہماں جزائر کے بھی ہیں سگان آئے تجھے اے دشمن ناداں خبر کیا کہ کیوں ہیں یہ سبھی مہمان آئے یہ پروانے کبھی اسلام کے ہیں یہ سارے سیکھنے قرآن آئے ابھی کر دیں گے قرباں اپنی جانیں خلافت کا اگر فرمان آئے ظفر صد شکر ہے کہ پھر جہاں میں مسلماں صاحب ایمان آئے الفضل قادیان 25 دسمبر 1932ء صفحہ 9) باد شیریں میں اس کی جو تیر میں سے بھی شیریں ہے فقر قصيح قربانی گردن یا نه گردن نوٹ : سابقہ ایڈیشن میں یہ نظم نامکمل تھی اب اسے مکمل شائع کیا جا رہا ہے۔