کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 74 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 74

کلام ظفر 131 شمع کے حضور پروانے اے شمع دیکھ پھر ترے پروانے آگئے بندھن تمام توڑ کے دیوانے آگئے دریا و بحر و کوه و بیاباں کو پھاند کر رگر پڑ کے تیرے در پہ ہیں مستانے آگئے اہلِ زمیں نے چاہا پہنچنے نہ پائیں یہ افلاک سے ملک انہیں پہنچانے آگئے اڑ کر ہے کوئی پہنچا تو گھٹنوں کے کل کوئی چاروں طرف سے کیسے خدا جانے آگئے ارض صہیب سے کوئی ارض بلال سے دیکھو تو رنگا رنگ کے پروانے آگئے کلا ظفر 132 آنکھیں ہیں اشکبار تو لب پر درود ہے عشاق تیرے لے کے یہ نذرانے آگئے باندھے رہیں گے خدمت اسلام پر کمر تیرے حضور عہد یہ دہرانے آگئے دیکھا تھا جس کو دُور سے چشم کلیم نے اس آگ سے دلوں کو یہ گرمانے آگئے یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اُتار دے نا محرموں کو راز یہ سمجھانے آگئے ان عاشقوں کی مستی کا عالم تو دیکھئے لکھوانے آگئے نام اپنا فردِ جرم میں دیکھو ذرا نظام خلافت کی برکتیں رگرد امام بکھرے ہوئے دانے آگئے