کلامِ ظفرؔ — Page 43
تو 69 کلا ظفر ہے سر ابتدائے زندگی تیری ہستی منتہائے زندگی تجھ سے وابستہ بقائے زندگی تو ہے آدم یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ الغرض جتنے ہوئے پیغامبر تھے وہ جن جن خوبیوں سے بہرہ ور تو ہے جامع سب کا قصہ مختصر یا محمد یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ تیرے دم سے ہم ہوئے خیر الامم تیرے بڑھنے سے بڑھا اپنا قدم ختم تجھ پر خوبیاں کان کرم تو ہے خاتم یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ اہلِ تثلیث و یہود و بُت پرست تو اکیلے نے ہی دی سب کو شکست چھاگئے چھا گئے رُوئے زمیں پر تیرے مست یا جرئی اللہ یا ابن المطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ جب جگا کر تجھ سے دشمن نے کہا کون اب تجھ کو بچائے گا بتا مُسکرا کر آپ نے فرما دیا ”میرا مولیٰ“ یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ 70 کلام ظفر يا مُطِيعَ الْاَمرِ واسْجِدُ وَاقْتَرِب“ إِنَّ قلبي نحو حُسنِكَ قَد جُذب وَالجَنانُ فِي فِراقِكَ مُضطرِب یا محمد یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ روز محشر جب نبی جائیں گے ڈر خلق کی ہو گی فقط تجھ پر نظر تب پکارے گا تجھے آثم ظفر يا شفيع الخلق يا ابن المطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ نوٹ : یہ نظم الفضل قادیان 23 نومبر 1945ء میں شائع ہوئی۔بعد میں رسالہ الفرقان خاتم النبین نمبر دسمبر 1952ء صفحہ 63,64 میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے اسے شائع کرتے ہوئے یہ نوٹ تحریر فرمایا:۔دو یہ پر کیف نظم جناب مولوی ظفر محمد صاحب فاضل پروفیسر جامعہ احمدیہ نے ایک خاص ساعت میں لکھی ہے۔اس میں غزوہ حنین کے موقع پر رسول اکرم ﷺ کا فوج اعداء میں گھر جانے کے باوجود اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ ، اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ کہتے ہوئے آگے بڑھنے کا نظارہ سامنے ہے۔شاعر نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی جامعیت اور خاتمیت کو دلکش انداز میں قلم بند کیا ہے۔جزاه الله خَيْرًا (ابو العطاء ) روزنامه الفضل 10 مارچ 2014 ، صفحہ 2)