کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 42 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 42

67 کلام ظفر نعت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم یہ نظم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ایک خاص واقعہ کی ترجمان ہے۔جنگ حنین میں کافروں نے جب ارد گرد کی پہاڑیوں سے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی تو مسلمانوں کی سواریاں بھاگ اٹھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بجز چند صحابہ کے تنہا میدان میں رہ گئے مگر اس حالت میں بھی حضور آگے بڑھ رہے تھے۔حضرت عباس نے حضور گوروکنا چاہا۔تو آپ نے فرمایا مجھے مت روکو۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ اس نظم میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔یا حبیب اللہ اللہ کے حُجب جانتا تھا مسمریزم تو نہ طب صدیوں کے بیمار اچھے کر دیے تو ہے عیسی یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ تھی سلیماں کی حکومت ریح پر آپ بھی ان سے نہیں ہیں کم مگر مَا رَمينَ ذرا کیجئے نظر تو سلیماں یا ابن عبدالمطلب پر لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ حق نے بخشا تجھ کو وہ فصل الخطاب جس سے عاجز آگئے اھل کتاب تھی تیری تقریر ہر اک لا جواب تو ہوا داؤد يا ابن المطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ 68 کلام ظفر موسوی اعجاز انشق الحجر آپ کا اعجاز و انشق القمر دونوں میں ہے قدرت حق جلوہ گر تو ہے موسیٰ یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ معرفت کا تو ہے وہ بحر عظیم محو حیرت ہے جہاں چشم کلیم کشتی مسکین و دیوار یتیم تو خضر ہے یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ يوسف مظلوم جب میں مضطرب اور غار ثور میں تو محتجب ظالموں پر قحط آیا فارتقب تو ہے یوسف یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبْ کعبہ اللہ میں جو رکھے تھے صنم جن کے آگے گردنیں تھیں سب کی کم کر دیے اُن سب کے تو نے سر قلم تو ہے ابراہیم یا ابن المطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ جب ضلالت کا بیا طوفان تھا غرق بحر معصیت انسان تھا اس گھڑی میں تو ہی کشتی بان تھا نُوح ہے تو یا ابن عبدالمطلب لَا كَذِبُ أَنْتَ النَّبِيُّ لَا كَذِبُ