کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 40 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 40

63 خدا تعالیٰ کلام ظفر مکرم میاں سراج الدین صاحب آف لاہور نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا پرمشتمل نظموں کے انعامی مقابلہ کا ایک اعلان الفضل کے ذریعہ کیا تھا۔اس پر بہت سی نظمیں موصول ہوئیں۔مندرجہ ذیل نظم اس سلسلے میں اول قرار پائی ہے۔چنانچہ میاں سراج الدین صاحب نے مبلغ پچاس روپے بطور انعام مکرم مولوی ظفر محمد صاحب کو دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔عدم سے جس نے ہمیں نکالا ه پاک ہستی وہ ذاتِ والا وہ حقیر ہم۔وہ بزرگ و بالا (ادارہ) ذلیل ہم۔وہ اجل و اعلیٰ ادب کے لائق ہے ذات اس کی ہے نام اس کا خدا تعالیٰ وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر گمان عاجز۔قیاس قاصر مقام اس کا مرد سے بالا قریب بھی ہے بعید عجیب ہے وہ بھی ہے خدا تعالیٰ نہاں ہے پردوں میں ذات اُس کی عیاں ہیں لیکن صفات اُس کی نہ چھیڑ جاحد تو بات اُس کی تجھے تو ہم نے مار ڈالا نگاه مومن سے پوچھئے گا کہاں نہیں ہے خدا تعالیٰ وہ ہ گلستاں میں مہک رہا ہے 64 کلام ظفر کلی کلی میں چٹک رہا ہے وہ مہر و مہ میں چمک رہا ہے اُسی کے پرتو ہے اجالا نظر ہے اپنی حجاب اپنا عیاں ہے ورنہ خدا تعالیٰ شریک اُس کا نہ کوئی ہم سر نبی ولی سب اُسی کے چاکر جھکائیے سر اُسی کے در پر جو لَمْ يَزَلْ ہے وَلَنْ يَزَالَا یہ عالم رنگ و بُو ہے فانی ہے جاودانی خدا تعالیٰ سلام بھیجا پیام بھیجا وہ جس نے خیر الانام بھیجا اُس نے ہم میں امام بھیجا اُسی نے پھر وقت پر سنبھالا رحیم و رحماں ہے ذات اُس کی کریم ہے وہ خدا تعالیٰ کسی کو کہنا ”جناب اعلیٰ کسی کو کہنا ”حضور والا“ غضب ہے لیکن وہ ذاتِ والا جو سب سے فائق ہے لا محالا زباں پہ جب اُس کا نام آئے تو بھول جائے تمہیں ”تعالیٰ“ روزنامه الفضل 21 جنوری 1956 صفحہ 4)