کلامِ ظفرؔ — Page 35
53 کلام ظفر 54 کلام ظفر کے چند ماہ بعد غالباً جون 1982ء میں خود بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔آمین۔اُن کے چند تاریخی خطوط بطور نمونہ پیش خدمت ہیں جن سے والد صاحب مرحوم کے علم و ادب کی عکاسی ہوتی ہے۔والد صاحب جب لاہور جاتے تو اُن کی خواہش ہوتی تھی کلینک کی بجائے گھر میں چلیں جو کہ کلینک کے ساتھ ہی تھا۔ایک دو دفعہ اس علمی اور ادبی محفل میں خاکسار کو بھی شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔”طب العرب“ کا کتابی نسخہ جوانہوں نے والد صاحب کو بھجوایا تھا اُن کے ان الفاظ کے ساتھ خاکسار کے پاس موجود ہے۔یادگار خلوص و نیاز بحضرة المکرم ظفرمحمد ظفر احمد نگری از نیر واسطی 16 جنوری 1972ء موصوف اپنی مذکورہ کتاب "طب العرب“ کے صفحہ 524 میں لکھتے ہیں: ’اطبائے پنجاب میں حکیم نورالدین صاحب بھیروی معالج ریاست کشمیر و جموں کا نام نامی نہایت سر بلند ہے جن کے گنگا جمنی طریق علاج نے نظام طب میں ایک عجیب تاثیر اور رنگینی پیدا کر دی ہے۔آپ 1841ء میں پیدا ہوئے۔فارسی لاہور میں مفتی محمد قاسم صاحب سے پڑھی اور طب میں آپ نے لکھنؤ کے مشہور حکیم مولوی علی حسین صاحب سے شرف تلمذ حاصل کیا۔“ طب العرب صفحہ 524 رموز الاطباء صفحہ 266) نیر واسطی صاحب کے چند خطوط کے نمونے جو موصوف اپنے علمی ادبی تعلقات کی بناء پر خاکسار کے والد صاحب کو ارسال کرتے رہے۔وہ قارئین ملاحظہ فرماویں۔مولنا سلام مسنون عطوفت نامہ شرف صدور لایا۔آپ نے نیازمند کے لئے جس خلوص اور محبت کا اظہار فرمایا ہے اس کے لئے ہر بنِ مو سے آپ کا شکر گزار ہوں۔خدائے برتر آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔عربی نظم میرے ماہنامہ نباض کے مدیر کو بہت پسند آئی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اس کو مع اردو ترجمہ کے نباض میں شائع فرمائیں۔لہذا اگر زحمت نہ ہو تو بین السطور میں ہر شعر کا اُردو ترجمه تحریر فرما کر یہ نظم دوبارہ ارسال فرما دیجئے دوائیں ابھی محفوظ رکھئے اور جب مناسب معلوم ہو ان کا استعمال شروع فرما دیجئے۔شعر وحکمت پر نظر کرم کا دلی شکریہ از راہ کرم عافیت مزاج سے مطلع فرماتے رہئے ممنون ہوں گا۔فقط والسلام نیر واسطی