کلامِ ظفرؔ — Page 34
51 کلام ظفر حکیم نیر واسطی (ستاره خدمت) کے خطوط دنیائے طب کے عظیم سکالر جنوبی ایشیا کے حکماء اور اطباء کی کوئی تاریخ جناب علامہ حکیم سید علی احمد نیر واسطی بجنوری (1901ء - 1982ء) کے بغیر مکمل نہیں قرار پاسکتی۔آپ اپنے زمانہ کے مایہ نا ز طبیب ہی نہیں ایک عالمی شخصیت علم طب کے عظیم سکالر، بلند پایہ شاعر، ماہر لسانیات اور ممتاز دانشور تھے۔پروفیسر ایڈورڈ جی براؤن کی کتاب عریبین میڈیسن (Arabian Medicine) 1921ء میں کیمبرج یونیورسٹی پریس لندن سے شائع ہوئی جس کا شگفتہ نفیس اور سلیس اردو ترجمہ ” طب العرب آپ کے قلم سے 1954ء میں شائع ہوا۔یہ ترجمہ آپ کی قوت انشاء پردازی کا گویا ایک اعجاز تھا جس پر اصل کا گمان ہوتا تھا۔پاکستان کے علمی حلقوں نے طب العرب کی بڑی قدر کی۔پنجاب یونیورسٹی نے مارچ 1956ء میں اسے خصوصی انعام کا مستحق قرار دیا۔پاک و ہند کے مشہور رسائل مثلاً معارف اعظم گڑھ اور صدق جدید لکھنؤ نے اس پر زور دار تعریفی تبصرے کئے۔سید وقار عظیم صاحب نے ریڈیو پاکستان میں ایک طویل نشریہ میں اسے زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔شفاء الملک حکیم احمد عثمانی صاحب نے مصنف کو لکھا ”دنیائے طب آپ کے احسان سے سبکدوش نہیں ہو سکتی۔حکومت پاکستان نے اس کی بلند پایہ علمی وادبی خوبیوں کی بناء پر اسے طبی درسگاہوں کے نصاب میں داخل کیا۔پیش لفظ ” طب العرب طبع دوم 1990ء از ڈاکٹر شیخ محمد اکرام ایم اے ڈی لٹ ناظم ادارہ ثقافت اسلامیہ لا ہور و تاریخ طب مؤلف آغا اشرف نا شر شیخ محمد بشیر اینڈ سنز لاہور ) ( بحوالہ الفضل 21 ستمبر 2006ء) 52 شعراء وادباء کے مکاتیب کلام ظفر حضرت خلیفہ اسیح الثانی (اللہ تعالی پر راضی ہو کا علمی حلقہ اور تہذیبی وثقافتی روابط کا دائرہ از حد وسیع تھا۔برصغیر کے اکثر ادیب، صحافی ، شعراء اور حکما ء اپنے مکاتیب کے ذریعے حضور سے رابطہ اور حضور کے مشوروں سے مستفید ہوتے رہتے تھے۔لاہور سے آپ سے اس نوع کا علمی وادبی ربط وضبط رکھنے والے بعض سرکردہ افراد کے نام یہ ہیں: (1) مولانا عبدالمجید سالک صاحب۔(2) مولانا سید حبیب صاحب۔(3) شاعر مشرق علامہ اقبال صاحب (4) مولانا صلاح الدین احمد صاحب۔(5) حکیم علی احمد صاحب غیر واسطی۔( بحوالہ روزنامہ الفضل 24 /اکتوبر 2009ء) جناب حکیم نیر واسطی صاحب نے ایک خط اکتوبر 1933ء میں حضور کو تحریر کیا جو کہ علم طب کے بارہ میں تھا۔قادیان نے ہمیشہ علم طب کی سرپرستی کی ہے۔خود مرزا صاحب ( مراد حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ ایک بہت بڑے فاضل جید اور حاذق طبیب تھے۔حکیم نورالدین صاحب بھیروی کا مرتبہ اطبائے کاملین کی صف اول میں خصوصاً بہت بلند ہے۔اُن کے مجربات کے نسخوں اور اُن نسخوں کی ترکیبوں کو دیکھ کر جالینوس اور شیخ کے عہد کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔۔۔۔تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 127) اور پھر حضرت خلیفہ امسیح الثانی بھی اپنے قلم مبارک سے اُن کو جواب دیتے رہے۔احباب جماعت کے ساتھ بھی اُن کا بڑا اچھا ادبی و علمی تعلق رہا۔ان کا پورا نام سید علی احمد نیر واسطی تھا۔موصوف کا تعلق والد صاحب مرحوم سے سن 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں ہوا۔جبکہ والد صاحب نے اُن کی ایک عربی نظم کی اصلاح کی جس کی بناء پر یہ ادبی اور علمی تعلق تا دمِ حیات جاری رہا اور والد صاحب کی وفات پر تعزیتی خط سے اختتام پذیر ہوا اور پھر والد صاحب کی وفات