کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 33 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 33

49 کلام ظفر ہاں مرے دل میں بھی ہے ایک تمنا مولیٰ 50 میرے دل میں تو آگ ایسی لگا کلام ظفر دے وہ اگر پوری ہو تو بندہ احسان بنوں جو ہر آتش کو خاکستر بنا دے آرزو تیرے ظفر کی ہے یہی بچپن تو ہی محبوب ہے اے میرے داور عالم باعمل و عاشق قرآن بنوں محبت میں فنا کر نہیں حاجت سوا تیرے کسی کی بس کونین ہے میں درکار تو ہی دنیا میں بیشمار لوگوں نے مسئلہ تدبیر و تقدیر پر بحث کی ہے اور افراط و تفریط کا شکار ہو کر جادہ مستقیم سے بھٹک گئے ہیں۔استاذی المحترم نے اس مشکل عقدہ کو صرف ایک شعر میں حل کر دیا ہے آپ فرماتے ہیں۔تدبیر بھی تقدیر میں ظفر قبضة ہے مولی تجھے تو گل مقام عطا کرے اللہ تعالیٰ کی ذات سے آپ کو بے پناہ عشق تھا اور وہی آپ کا مطلوب و مقصود تھا۔ایک عربی قصیدے میں فرماتے ہیں۔وَاشْعِلُ فِي جَنَانِي نَارَحُتٍ مَادٍ تُغَادِرُ كُلَّ نَارٍ فلاشـ مِنكَ الْمَحَبَّةِ وَالْوَدَاد ولا يـ جَّةٌ إِلَّا إِلَيكَ استاذی المحتر م کو قرآن کریم کی تفسیر میں بڑا کمال حاصل تھا مجھے افسوس ہے کہ احمد نگر میں آپ جو درس دیا کرتے تھے اس کے نوٹس محفوظ نہیں کئے گئے ورنہ دنیا دیکھتی کہ آپ کس قدر عبقری تھے۔آپ نے مقطعات قرآنی کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے سردست میں اس مضمون میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔مشک آنست که خود ببوید نه که عطار بگوید اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو ایک مفصل مضمون میں آپ کے علم قرآن پر روشنی ڈالوں گا جس سے دنیا انگشت بدنداں ہو کر بے اختیار پکار اٹھے گی۔ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔آمین فَكُنُ في هذه لِى وَالْمَعَادٍ ان اشعار کا منظوم ترجمہ آپ کے شاگرد نے کیا ہے، قارئین کی سہولت کیلئے اسے بھی درج کیا جاتا ہے کہ ان اشعار کا مفہوم سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ے (روز نامه الفضل 27 جنوری 2014ء صفحہ 4)