کلامِ ظفرؔ — Page 29
41 کلا ظفر استاذی المحتر م کو اپنے لخت جگر کے بارے میں یقین تھا کہ وہ ایسی حرکت نہیں کرسکتا لیکن پھر بھی آپ نے مدعی کے سامنے اپنے بیٹے کی بریت نہیں کی اور نہ ہی کوئی صفائی پیش کی بلکہ اسے دعوی دائر کرنے کا مشورہ دیا کہ اگر میرابیٹا خطا کا رہے تو اسے سزا ملے اور اگر بے گناہ ہے تو اس کی سچائی آشکار ہو۔کیا اس دور ہوس کار میں آپ نے کوئی ایسا آدمی دیکھا ہے جو اپنے حقیقی بیٹے کے خلاف دعوی دائر کرنے کا مشورہ بھی دے ڈالے۔؟ ؎ انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد حاضر جوابی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذہن رسا عطا فرمایا تھا اور آپ حاضر دماغی میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ایک دفعہ حضرت خلیفتہ اسیح الثالث ( جو آپ کے کلاس فیلو بھی تھے ) نے آپ کو دیکھ کر دریافت کیا۔ناصر کے ابا کا کیا حال ہے؟ آپ نے برجستہ جواب دیا۔ناصر سے پوچھئے۔اس سے مجلس کشت زعفران بن گئی۔ایک دفعہ دوران تعلیم آپ نے مجھے فرمایا۔حدیث عیسی ابن ہشام کا مطالعہ کرو۔میں نے پوچھا حدیث عیسی ابن ہشام کیا ہے آپ نے فرمایا عیسی ابن ہشام کا خواب ہے، میں نے کتاب کو دیکھا تو اڑھائی تین سو صفحات کی کتاب تھی۔میں نے پوچھا اس نے اتنا لمبا خواب دیکھا پھر کیا ہوا۔آپ نے فرمایا پھر وہ بیدار ہو گیا آپ کے اس جواب پر ساری کلاس لوٹ پوٹ ہو گئی۔فراست مومنانه حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مومن کی فراست سے بچو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔مولوی محمد شفیع صاحب اشرف مرحوم ابھی طالب علم تھے کہ ایک روز استاذی انتر م نے انہیں فرمایا۔تم ناظر امور عامہ بنو گے اور تمہیں کار بھی ملے گی۔بات آئی گئی ہو گئی۔40-35 سال 42 کلام ظفر بعد مولوی محمد شفیع اشرف صاحب ناظر امور عامہ بنے اور انہیں کار بھی ملی اور آپ کی بیان کردہ بات من وعن پوری ہوئی۔آپ نے یہ بات انہیں اس وقت بتائی جب کسی ناظر کے پاس شاید سائیکل بھی نہیں تھی۔اسی قسم کی ایک بات حضرت خلیفة المسیح الرابع سے بھی تعلق رکھتی ہے آپ کے خلیفہ بننے سے دس بارہ سال قبل استاذی المحترم نے فرمایا کہ مجھے مقطعات قرآنی سے معلوم ہوا ہے کہ چوتھے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد ہوں گے۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی وفات کے بعد آپ چوتھے خلیفہ بنے اور آپ نے فراست مومنانہ سے جو بات معلوم کی تھی وہ ہو بہو اسی طرح پوری ہوئی۔مزاح و ظرافت آپ خشک زاہد نہ تھے بلکہ بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے اور باتوں باتوں میں ایسی پھلجھڑیاں چھوڑتے تھے کہ سننے والے لطف اندوز ہوتے تھے۔ایک دفعہ آپ بحری جہاز میں سفر کر رہے تھے۔کچھ علماء حضرات بھی اس میں سوار تھے وہ آپس میں علمی گفتگو کرنے لگے تو آپ بھی ان میں شامل ہو گئے ، ایک مولوی نے دوسرے سے پوچھا۔آپ کیا پڑھے ہوئے ہیں؟ اس نے کہا میں سکندرنامہ پڑھا ہوا ہوں۔سب لوگ اس کی عبقریت سے مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے ان میں سے ایک نے استاذی المحترم سے پوچھا آپ کیا پڑھے ہوئے ہیں آپ نے کہا میں قواعد اللغة العربيه المصريه پڑھا ہوا ہوں وہ بھی لمبا تڑنگا نام سن کردم بخودرہ گئے اور کہنے لگے واقعی آپ سب سے بڑے عالم ہیں۔حالانکہ قواعد اللغة العربیه عربی گرائمر کی ایک کتاب ہے جو جامعہ احمدیہ کی دوسری یا تیسری کلاس میں پڑھائی جاتی تھی۔استاذی المحترم نے اس رنگ میں اس کا نام لیا کہ وہ اس کا نام سنتے ہی سہم گئے۔