کلامِ ظفرؔ — Page 28
39 کلا ظفر آپ کو مزید پریشان کر دیا۔مگر قربان جائیے آپ کے ثبات و استقلال کے جب بچی کی تدفین سے فارغ ہو کر آپ گھر آئے تو بیگم صاحبہ سے فرمایا۔آج گوشت پکاؤ اور نہایت لذیذ پکاؤ، چنانچہ آپ کی حسب منشاء گوشت پکایا گیا آپ نے کھانا کھا کر فرمایا ہمیں مبارکہ بیگم کی وفات کا غم ضرور ہے لیکن ہم وہی بات کریں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، رضا بالقضاء کی ایسی مثال شاید ہی آپ کو کہیں ملے۔صورتیں الہی کس دیس بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں نفس مطمئنہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نفس مطمئنہ عطا فرمایا تھا جو کسی بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی پریشان نہ ہوتا تھا ایک دفعہ آپ کی اکلوتی صاحبزادی کا خاوند رات کو آپ کے پاس آیا۔آپ سوئے ہوئے تھے اس نے آپ کو جگایا تو آپ نے پوچھا۔اس وقت آنے کی کیا وجہ ہے اس نے کہا میں آپ کی بیٹی کو طلاق دینے آیا ہوں، آپ نے فرمایا۔دے دو اس نے طلاق نامہ آپ کے ہاتھ میں تھمایا اور چل دیا، آپ نے طلاق نامہ کو تکیے کے نیچے رکھا اور سو گئے صبح بیدار ہوئے تو فرمایا ، جو ہونا تھا ہو چکا، ہم کیوں پریشان ہوں جس بات سے ہمارا رب راضی ہے ہم بھی اسی سے راضی ہیں آپ نے سچ کہا ہے۔ہے خوش نصیب ظفر آج تک جسے پریشاں نہ کر سکے کتنا دنیا کے حادثات 40 کلام ظفر کسی اور کے ساتھ یہ روح فرسا واقعہ پیش آتا تو اس کی نیندیں حرام ہو جاتیں اور آہ و بکا سے وہ آسمان سر پر اٹھا لیتا۔حق گوئی و بیا کی اہل دنیا حق گوئی کی تلقین تو کرتے ہیں مگر جب حق گوئی کا موقع آتا ہے تو بلطائف الحیل اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیجیے ہم آپ کو استاذی المحتر م کا ایک واقعہ سناتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ حق کے بالمقابل کسی عزیز کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے بھتیجے نے اپنے بڑے بھائی پر کلہاڑی سے وار کیا جس سے اسے گہرا زخم آیا آپ کے لواحقین نے تھانے میں کچھ لوگوں کے خلاف پرچہ دے دیا کہ انہوں نے ہمارے آدمی پر حملہ کیا ہے۔استاذی المحتر م کو جب حقیقت حال کا علم ہوا تو آپ تھانے گئے اور تھانیدار سے کہنے لگے یہ سب آدمی جن کو آپ نے گرفتار کیا ہے۔بے گناہ ہیں اور اصل مجرم میرا بھتیجا ہے۔تھانیدار آپ کی صاف گوئی پر حیران رہ گیا اور اس نے آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر آپ کو پنکھا اور مشروب بھجوایا اور آپ کی حق گوئی کے طفیل اس نے فریقین کے درمیان مصالحت کرادی۔اسی تعلق میں ایک اور واقعہ بھی سماعت فرمائیے ، ایک احمدی نے ایک غیر از جماعت دوست سے کچھ رقم لینی تھی آپ کے بیٹے برادرم ناصر احمد ظفر نے وہ رقم لے کر ایک آدمی کے پاس بطور امانت رکھ دی۔احمدی دوست نے خیال کیا کہ ناصر احمد رقم خرد برد کر گیا ہے اس نے استاذی المحترم سے کہا کہ ناصر احمد مجھے رقم نہیں دیتا۔آپ نے اسے مشورہ دیا کہ آپ قضاء میں ناصر احمد کے خلاف دعوی دائر کر دیں۔چنانچہ اس نے قضاء میں ناصر احمد کے خلاف دعوی دائر کر دیا۔پہلی پیشی پر ہی قضاء نے ناصر احد کو بری کر دیا کیونکہ جس کے پاس رقم بطور امانت پڑی تھی اس نے کہا کہ یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے، رقم میرے پاس موجود ہے۔