کلامِ ظفرؔ — Page 175
333 أَهَنُودُ مَهْلًا جَاءَ وَقُتُ تَبَابِكُمُ اے ہندوؤ ! تم بھی ٹھہر و۔تمہاری تباہی کا وقت بھی آ گیا ہے فَسَتحْرَقُنَ بِعِجْلِكُمْ مَعْبُودِ كُمْ عن قریب تم اپنے معبود بچھڑے سمیت جلائے جاؤ گے کلام ظفر يَا مَعْشَرَ الْإِسْلَامِ بُشْرَى إِنَّهُ اے اہل اسلام! تمہیں خوشخبری ہو کہ قَد جَاءَ وَقْتُ عُلُوكُمْ وَصُعُودِ كُمْ تمہاری برتری اور سرفرازی کا وقت آگیا ہے! أَحمَاةَ دِينِ اللهِ أَرْضُوا رَبَّكُمْ اے اللہ کے دین کے حامیو! اپنے قیام بِقِيَامِكُمْ وَرُكُوعِكُمْ وَسُجُودِ كُمْ رکوع اور سجود اللہ کو راضی کرو هذِي الْقَصِيدَةَ قُلْتُ تَرْحِيْبًا بِكُمُ یہ قصیدہ میں نے آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے کہا ہے إن تَقْبَلُوا فَقَبُولُكُمْ مِنْ جُودِكُمْ آپ اگر اسے قبول فرمائیں تو آپ کی نوازش ہو گی 334 کلام ظفر ایک عرب عیسائی پادری کے خط کے جواب میں ذیل کے دو شعر ایک عرب عیسائی پادری کے عربی خط کے جواب میں کہے گئے۔كتابكَ جَاءَ أَيُّهَا الْمُتَنَظِرُ فَهَذَا جَوَابِى خُذْهُ إِنْ كُنْتَ تَشْعُرُ اے نصرانی! تیری چٹھی مجھے مل گئی ہے سو اگر تجھ میں سمجھ ہے تو لو یہ میرا جواب ہے۔وَمَا أَنْتَ إِلَّا عَبْدُ فَانٍ وَمَيَّتُ فَانتَ عَلَى تَرْدِيدِهِ لَا تَقْدِرُ تو ایک فانی اور وفات یافتہ انسان کا عبد ہے سوتو اس کا جواب نہیں دے سکتا۔°