کلامِ ظفرؔ — Page 111
205 اس چمن میں بعض لیلائیں بھی ہیں دشمن یوسف زلیخا ئیں بھی ہیں کلام ظفر بچ کے رہنا ان سے ہر دم اے عزیز دشمن ایمان ہیں گر قضا را پیش آئے ابتلا حرز ایمانی ہو لا حول ہر ولا بد تمیز گھڑی مقصد پیش نظر رہے توڑنا کانٹوں سے بچ بچ کر ثمر احمدی تو اور این احمدی موجزن ہے تجھ میں نور سرمدی بن کے رہنا احمدیت کے سفیر امریکہ ہو روشن اے منیر کامراں لوٹو ނ به انجام سفر سر پر باندھے سہرة فتح و ظفر 206 کلام ظفر خضر حیات خان کے استعفیٰ دینے پر ۱۹۴۷ء میں پنجاب میں یونینسٹ پارٹی کی حکومت تھی اور خضر حیات خاں اس کے سربراہ تھے۔قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش تھی کہ خضر حیات خان استعفیٰ دے دیں لیکن وہ نہیں مانتے تھے۔اس پر حضرت مصلح موعود نے محترم چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو ان کے پاس بھجوایا اور خواہش ظاہر کی کہ آپ ملت اسلامیہ کے وقار کی خاطر استعفیٰ دے دیں۔چنانچہ انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔اس پر قائد اعظم نے حضرت مصلح موعود اللہ اُن پر راضی ہو کا شکریہ ادا کیا نظم ہذا میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔اشارے دست قدرت کے نمایاں ہوتے جاتے ہیں خدا کے دین کی نصرت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں عدد شتری برانگیزد که خیر مادر آن باشد شرارے کفر کے رحمت کی باراں ہوتے جاتے ہیں کہیں گاندھی کی تحریریں کہیں نہرو کی تقریریں مسلماں اُن کو سُن سُن کر مسلماں ہوتے جاتے ہیں مسلمانوں میں پھر احساس بیداری ہوا پیدا یہ قطرے ملتے جاتے اور طوفاں ہوتے جاتے ہیں