کلامِ ظفرؔ — Page 110
(203 کلام ظفر 204 کلف ظفر خدا حافظ عزیزم منیر نو از ابن محترم چودھری شاہنواز کے حصول تعلیم کے لئے امریکہ جانے پر سوئے امریکہ چلے حق تعالی ہو اے منیر ہو تمہارا دستگیر ملک امریکہ ہے مُلک علم و فن صنعت و ایجاد میں شاہ زمن و فن میں اب اسی کا راج ہے ساری دنیا اس کی اب محتاج ہے ہاں بظاہر چمن پر نور ہے پر حقیقت سے نہایت دُور ہے نور میں اس کے نہاں ہے نار بھی اسکے پھولوں میں ہیں پنہاں خار بھی عالم مادی پہ ہے اس کی نظر آسمانی نور ނ ابن مریم کو خدا سمجھا ہے یہ ہائے سمجھا بھی تو کیا سمجھا ہے یہ ابن اس کو پابندی اب نہیں کچھ بھی رہا اس پر حرام کام بدکاری ہے اس کا صبح و شام ہے بے خبر کفارہ ہوا سے چھٹکارا ہوا نشہ کے میں سدا مخمور ہے عارضی خوشیوں سے معمور ہے اس کے تہذیب و تمدن بے حیا عیش و عشرت میں ہے یہ ڈوبا ہوا دامن عقت اے عزیزم ہوشیار ہاں ہوشیار کرنا داغدار