کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 102 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 102

187 کلام ظفر 188 کلام ظفر جبر و قدر دیدنی ہے میری مجبوری کا عالم ہم دم خود کو آزاد سمجھنے یہ بھی مجبور ہوں میں میری تدبیر بھی جب قبضہ تقدیر میں ہے خود کو مجبور سمجھتا ہوں تو معذور ہوں میں تو ہی بتلا میرے مولیٰ یہ معمہ کیا ہے تو ہے نزدیک مرے تجھ سے مگر دُور ہوں میں اپنے اس نام سے کچھ شرم سی آتی ہے مجھے اشرف الخلق کے جس نام سے مشہور ہوں میں رکرم خاکی سے نہیں بڑھ کے حقیقت میری پھر وہ کیا بات ہے جس بات پہ مغرور ہوں میں میں ترا عبد ہوں مولا میرا معبود ہے تو مزد کی بات نہ کر کیا کوئی مزدور ہوں میں عالم شود و زیاں سے میرا برتر ہے مقام تیرا صد شکر کہ ہر حال میں مسرور ہوں میں کاش آ کر میرے دل میں کوئی جھانکے تو سہی دین اسلام کے انوار سے معمور ہوں میں مجھ سے ناراض ہیں کچھ لوگ تو معذور ہیں وہ اُن کے افکار کی دُنیا سے بہت دُور ہوں میں کوئی کافر تجھے کہتا ہے تو کہنے دو ظفر اپنے مولیٰ کی نگاہوں میں تو منظور ہوں میں (روز نامه الفضل 14 نومبر 1978 ء صفحہ 2)