کلامِ ظفرؔ

by Other Authors

Page 135 of 194

کلامِ ظفرؔ — Page 135

253 کلام ظفر برروئے خاک شجره راحت خلافت است است آئینه دار مہرِ رسالت خلافت خلافت، رسالت کے آفتاب کی آئینہ دار ہے شیرازه بندِ رُوح جماعت خلافت است خلافت، جماعت کے اتحاد اور تنظیم کی روح رواں ہے نظام بروئے زمیں مگر بسے میں نے زمین پر بہت سارے نظام دیکھے ہیں لیکن جان نظام و حُسن سیاست خلافت است خلافت، سیاست کے حسن و نظام کی جان ہے۔دیدم میزان پادشاہی جمہوریت غلط جمہوریت اور بادشاہت کے سب طریق عبث ہیں قسطاس مستقيم عدالت خلافت است خلافت، عدل و انصاف قائم کرنے والا ترازو ہے۔254 کلام ظفر ہر یک طریق دُشمنِ تسكين رهروان راہ حق کے مسافروں کے لئے دوسرا ہر راستہ بے امن اور بے سکون ہے راه نجات و امن و سلامت خلافت است جبکہ خلافت ہی راہ نجات، امن و سلامتی ہے۔در مسجد و امام ندانی که راز چیست تو مسجد اور امام کے بارے میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں کیا بھید پوشیدہ ہے؟ مسجد جماعت است و امامت خلافت است یعنی مسجد جماعت اور خلافت امامت ہے۔اے بے خبر به ظِل خلافت بیا! بیا!! اے غافل شخص! خلافت کے زیر سایہ آ جا! (کیونکہ) بر روئے خاک شجره راحت خلافت است خلافت، رُوئے زمین پر راحت کا (سایہ دار ) درخت ہے بگذر ز نفس خویش ظَلُوم و جهول باش اپنے نفس کو چھوڑ اور ظلوم و جہول ہو جا نشنيدم که بار امانت خلافت است کیا تو نے سنا نہیں کہ خلافت ہی ہے جو امانت کا حق ادا کر سکتی ہے۔روزنامه الفضل 24 نومبر 1957 ء صفحہ 3)