کلامِ طاہر — Page 24
لاکھوں میرے پیارے تیری را ہوں کے مسافر پھرتے ہیں تیرے پیار کو سینوں میں بسا کے کتنے ६ ہی پابند سلاسل وہ گنہگار نکلے جو سینوں ترا نام سجا کے میں اُن جدا ہوں مجھے کیوں آئے کہیں چین سے دل منتظر اُس دن کا کہ ناچے انہیں کے عشاق ترے چین کا قدم تھا قدم صدق جال دے دی نبھاتے ہوئے اڑ گئی سایہ چھت اُڑ گئی ارمانوں کے دن جاتے اتنا تو کریں اُن کو بھی کر کبھی دیکھیں وفا پیمان کے رہا کتنے سروں پر رہے پیٹھ دکھا کے ایک ایک کہیں ނ لگا کے آداب محبت کے غلاموں کو سیکھا کے کیا چھوڑ دیا کرتے ہیں دیوانه بنا کے؟ مُجھ کو اجازت کہ کبھی میں بھی تو رُوٹھوں دیں لطف آپ بھی لیں رُوٹھے غلاموں کو منا کے 24