کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 265

کلامِ طاہر — Page 179

ہونا چاہیے تھا۔اس کی یہ ساری نظم اسی طرح چلتی ہے۔پھر غالب کہتا ہے۔عمر بھر کا تو نے پیغام وفا باندھا تو کیا ی بڑا چست مصرع ہے اس میں کچھ زائد نہیں ہے اس کے مطابق اگلا مصرع یوں ہونا چاہئے تھا عمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہا اگر آپ پہلے کو کیائے کردیں تو جسطرح کیائے میں ائے زائد ہوتی ہے بالکل اسی طرح آئے میں ئے زائد ہوئی ہے۔اور نہائے ہائے، میں آخری 'ئے زائد ہے۔صرف پڑھنے کے انداز کا فرق ہے۔پس میرے اس مصرع کی تقطیح کا جہاں تک تعلق ہے اس میں غالب کی 'ہائے ہائے والی نظم کی طرح ہی آئے زائد ہے اور یہاں ائے کی اس طرز کی واضح آواز نہیں ہے کہ گویا آ' اور ائے دو حرف ہیں۔بلکہ آ' کے ساتھ ائے کی آواز کو نرمی کے ساتھ مدغم کیا گیا ہے۔بہر حال یہ کوئی سقم نہیں چوٹی کے شعراء کے کلام میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔آپ دونوں بھی ماشاء اللہ ما ہرفن اور قادر الکلام شعراء ہیں۔مجھے تو آپ کا کلام بھی اس سے خالی دکھائی نہیں دیتا اور پڑھتے وقت کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔لیکن چونکہ اردو ادب میں اس کی اجازت سمجھی جاتی ہے اور اہل فن بھی استعمال کرتے ہیں۔اس لئے میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا مثال کے طور پر مکرم سلیم صاحب کا یہ شعر ملاحظہ ہو۔زیست کیا ہے سکینت اگر نصیب نہ ہو جو موت وجہ سکوں ہوتو کیا ہے کم اعجاز اس میں اگر زیست پڑھیں گے تو کیا کا' کاف اور دی دونوں زائد ہیں۔کیونکہ فنی نکتہ نگاہ سے اس کا وزن زیستا بنتا ہے۔گویا کاف اوری دونوں زائد ہیں۔لیکن اگر کیا پورا پڑھنا ہو تو پھر زیست کی ت زائد بنتی ہے۔اب یہ دیکھ لیں کہ ماشاء اللہ یہ شعر چوٹی کا ہے۔لیکن پڑھنے کے انداز کے فرق سے وزن 25