کلامِ طاہر — Page 149
میاں چھیمی کا حلوہ یہ نظم بچپن میں ضلع کانگڑہ کے ایک پر فضا پہاڑی مقام دھر مسالہ میں کہی تھی جہاں ہم آٹھ بھائی اپنے ابا جان کے ساتھ گئے ہوئے تھے۔وہاں بھائیوں نے آپس میں پیسے ڈال کر حلوہ بنانے کا پروگرام بنایا تھا۔جب حلوہ پک چکا تو میاں وسیم جنہیں ہم اُن دنوں تھیمی کہا کرتے تھے ، حلوہ اٹھائے ہوئے تیزی سے ہماری طرف آرہے تھے کہ رستے میں فکر لگی اور ان کے ہاتھ سے دیگچھ چھوٹ کر سارا حلوہ مٹی میں مل گیا۔ہم نے انہیں چھیڑ نے کی خاطر یہ قصہ بنایا اور میں نے اسے نظمایا لیکن یہ نظم محض بچپن کی اک چھیڑ چھاڑ تھی ورنہ میاں ، سیم کی نیت ہر گز حلوہ اکیلے کھانے کی نہیں تھی۔قیض میری بڑی بہن، بیگم مرزا مظفر احمد صاحب کا ایک ملازم تھا جو اُن دنوں اُن دونوں کے ساتھ ہی وہاں ٹھہرا ہوا تھا اور چھوٹا ہونے کی وجہ سے بے تکلف اس کا گھر میں آنا جانا تھا۔امی سے مراد میری امی مرحومہ ہیں جن سے میاں و سیم بلاوجہ بچپن میں بہت ذرا کرتے تھے۔یہ نظم میاں وسیم احمد صاحب کی اجازت سے شامل اشاعت کی جار ہی ہے۔اک پیسہ پیسہ جوڑ کر بھائیوں نے شوق سے سوچا تھا یہ کہ سوجی کا حلوہ بنائیں گے 149