کلامِ طاہر — Page 138
تیرے لئے ہے آنکھ کوئی اشکبار دیکھ آنکھ کوئی اشکبار تیرے لئے ہے نظریں اُٹھا خدا کے لئے ایک بار او دل کشتی گل نظر اُٹھا من میں حال زار نزار ہزار اٹھی بس ان ایک نوائے جگر خراش ٹوٹے پڑے ہیں بربط ہستی ہستی کے تار مجھ آج وعدة ضبط الم لے ان آنسوؤں کا کوئی نہیں اعتبار دیکھ 138