کلامِ طاہر — Page 23
دل سے زباں تک کیا موج تھی جب دل نے جیسے نام خدا کے اک ذکر کی دھونی میرے سینے میں رہا آہیں تھیں کہ تھیں ذکر کی کے گھنگھور گھٹائیں نالے تھے کہ تھے سیل رواں حمد ثنا کے Люби دیئے اُسلوب بہت صبر رضا کے اب اور نہ لمبے کریں دن کرب , بلا کے اُکسانے کی خاطر تیری غیرت تیرے کیا مجھ بندے دعا مانگیں ستم گر کو سُنا کے رکھ لاج کچھ ان کی میرے ستار کہ زخم جو دل میں پُچھیا رکھے ہیں پتلے ہیں کیا کے 23