کلامِ طاہر — Page 178
اس مصرع کے بارے میں آپ نے ترتیب بدلنے یا کیوں آئے کی جگہ کوئی دوسر الفظ لانے کی تجویز پیش کی ہے۔لیکن مجھے آپ کے اصرار کی سمجھ نہیں آئی کہ کیوں ترتیب بدلی جائے۔اسے اہلِ کلام جب پڑھتے ہیں تو آئے دو آوازیں نہیں نکلتیں بلکہ دونوں آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں۔جس طرح غالب کے مرثیہ میں ہائے ہائے میں آخری ئے کی آواز نمایاں نہیں ہے۔آئے اور ہائے کی آواز کبھی Soft پڑھی جاتی ہے اور کبھی ئے کر کے الگ پڑھی جاتی ہے جب soft پڑھی جاتی ہے تو عملاً یہ اتنی خفیف ہو جاتی ہے کہ زبان پر بوجھ نہیں پڑتا اور اہل کلام اس کو نا گوار خاطر نہیں سمجھتے۔مکرم سلیم صاحب کا غالبا یہ بھی اعتراض ہے کہ کیوں آ پر وزن کا دم ٹوٹ جاتا ہے۔انکو بتا دیں کہ یہ آ اور ائے نہیں ہے یعنی ائے پر الگ زور نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ سلیم صاحب کو جسطرح آتش کے اس مصرع میں آئے استعمال ہوا ہے صرف اسی طرح آئے کہنے کی عادت ہے اور وہ soft ' آئے پڑھ ہی نہیں سکتے آتش کا پورا شعر یوں ہے: بجا کہتے آئے ہیں بیچ اس کو شاعر کمر کا کوئی ہم ނ مضموں نکلا اب یہاں آ ئے پڑھنا پڑتا ہے اگر آئے Soft پڑھیں گے تو وزن ٹوٹ جائے گا۔اس کے مقابل پر غالب کی نظم میں Soft پڑھنے کی مثال موجود ہے۔اسکی ہائے ہائے والی نظم میں آخری ہائے کو Soft پڑھتے ہیں اور لمبا کر کے ہلائے نہیں پڑھتے بلکہ ہا اے آؤ پر ہی بات ختم ہو جاتی ہے۔غالب کہتا ہے: داد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے اگر دوسرے ہائے کو بھی با ائے پڑھیں تو اس میں ائے کی آواز زائد ہے۔اصل میں ہائے ہا 24 24